( سیاہ سی ڈرامہ 2013)

کل مورخہ 16 فروری 2013 بروز ہفتہ ایکبار پھر متحدہ   (MQM) ، پے پالز (paypals) پارٹی (PPP) سے غیر متحد ہوگئی۔

ہم نے کہا (دل میں بھئ۔ ) چلو اچھا ہوا حکومت چھننے سے پہلے (1 ماہ پہلے ہی سہی؛ آپ لوگ تو پیچھے ہی پڑ جاتے ہو)  ہی حکومت چھوڑ دی گئی۔ شاید اب بجلی کے بل کم آنے ،  گیس اور سی  این جی کی لوڈشیڈنگ سے نجات کا وقت شروع  ہونے والا ہے!!!  جناب، ترجمان نے کنفرم کیا ہے کہ یہ فیصلہ اٹل ہے۔( اب ہر بار منگو کو الّو تھوڑا بنائیں گے) ۔

فوراً اپنے عزیز دوست عبداللہ سے تبادلہِ خیال کرنے انکے گھر پہنچے ؛ ہمیشہ کی طرح  ہمارے خیالات اور آدھی ادھوری  خوشیوں  کے ارمانوں پر اوس ڈالتے ہوئے وہ  یوں گویا ہوئے:

یہ 2013 کی الیکشن کی اوپننگ سیریمنی (Opening Ceremony) ہے؛ الیکشن کیمیشن کے مطابق نگراں سیٹ اپ ؛ حکومت اور حزبِ اختلاف کی رضامندی سے بنے گا اور جب تک  ایم کیو ایم ، پی پی پی  سے غیر متحد ہو کر  حزبِ اختلاف میں نہیں جائے گی اس وقت تک مسٹر ذورداری کے حسبِ  منشاء  نگراں حکومت کیسے آئے گی؟؟؟

ہم یہ سوچتے ہوئے اپنا سامنہ  لے کر واپس آگئے (تو کیا آپ جیسا منہ لے کر آتے): کہ

پاکستانی منگو کو اگلے پانچ سالوں کی لئے پھر سے پرانے پانچ سال مبارک ہوں۔۔۔

شکریہ: تبصرے میں خوب دل کی بھڑاس نکالیں !

 (از:منگو)

(مورخہ: 17 فروری 2013 شام 6:31)

اچھّا لگا

boy-imagining

                   ہم کو تیرا دیکھ کریوں مسکرانا  اچھّا لگا     مسکرا کر پھر یوں روٹھ جانا اچھّا لگا

                   یاد میں پا کے وہ لب ہلانا اچھّا لگا              باتوں میں وہ اندازِ شاعرانہ اچھّا لگا

                    ہوئے ہم  جو تجھ سے ناراض تو                باتوں ،باتوں میں ہم کو منانا اچھّا لگا

                    کچھ کہتے کہتے جانے کیا وہ سوچ کر         تیرا پھر خاموش ہو ہی جانا اچھّا لگا

                   بھرم رکھتے ہوئےاپنی شانِ بے نیازی کا      نہ نہ کرتے ہوئے وہ مان جانا اچھّا لگا

جاگناہماری خاطر انکا وہ رات بھر

سماؔح کو انکا وہ دل دیوانہ اچھّا لگا

 (از:سماؔح)

(مورخہ: 12 فروری 2013 رات 02: 10)

( اصل: مورخہ: 03 نومبر 1995)

پہلی دوروزہ اردو بلاگر کانفرنس 2013 – دوسرا حصّہ

Blog_Conf_new_2013-LHR-300x168

کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تقریبا دس بجے ہوا اور قرآن  مجید کی تلاوت سے ہوا اس کے بعد جناب محسن عباس قائم مقام صدر نے ابتدائی کلمات سے ادا کئے۔

جناب فرحت عباس شاہ ، محسن عباس، جناب میاں ابو ذر(نائب صدر ایوان صنعت و تجارت) ، محمد حسن معراج ، شعیب صفدر، شاکر عزیز، ایم بلال، کاشف نصیر، محمد سعد، ظہیر چوہان، خرم ابن شبیر،  نے شرکت کی  جن کےنام بھول رہا ہوں ان سے پیشگی معزرت( ویسے بھی سب اول تو نہیں آسکتے نا)

ابتدائی کلمات کے بعد جناب میاں ابوذر  صاحب (نائب صدر  ایوانِ صنعت و تجارت لاہور)  نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوۓ تقریب کا باقائدہ آغاز کیا۔

:پہلا روز 26 جنوری 2013 بروز ہفتہ:

:کانفرنس کی نمایاں  خصوصیات:

پہلے روز کی کانفرنس میں جو سب سے عمدہ خیال نظر آیا وہ  یہ کہ بلاگرز اور انکی بلاگنگ کا تعارف انکی زبانی کے تحت تمام  شرکاء کو  نشست بہ نشست  دعوت دی گئی کہ وہ منج پر آئیں اور اپنے بلاگ کا تعارف پیش کرنے کے ساتھ ساتھ  اپنا اظہارِ خیال پوری آزادی کے ساتھ پیش کریں۔

اس دعوت کے تحت نہ صرف یہ کہ نئے اور پرانے بلاگران نے اپنا اور اپنے بلاگ کا  تعارف پیش کیا بلکہ بلاگ کے واریوں نے بھی اظہارِ خیال پوری آزادی کے ساتھ پیش کیا۔

مزکورہ بالا عنوان کے تحت  جن لوگوں نے بہترین اظہارِ کئے ان میں حسن معراج اورمحمد شاکر سرِفہرست رہے۔ البتہ ایم بلال ایم صاحب اچانک منچ پر بلائے جانے پر زرا  کنفیوژ  ہوئے مگر انھوں نے  اپنے روائیتی  ہلکے پھلکے شوخ اندازِ بیاں سے اس کیفیت پر قابو پاتے ہوئے لوگوں کو  محضوظ  کیا اور اگلے آنے والوں کے لئے آسانیاں پیدا کیں۔

کانفرنس میں موجود شرکاء کو رابطے اور تعلقاتِ عامہ کے تحت ایک دوسرے سے شاناسائی کے لئے جو عمدہ طریقہ ڈھونڈا گیا وہ لاہور کے تاریخی مقامات کی سیر تھی۔ حالانکہ سیر کا احاطہ لاہور کی بادشاہی مسجد تھی  جبکہ مینارِپاکستان کی صرف نظری سیر کی گئی؛ کچھ منچلوں نے سرخ بتی ایریا  ، یا پھر  شاہی محلہ کی بھی سیر کی جو کہ اب  فوڈ اسٹریٹ میں تبدیل ہو چکی ہے۔

اس سیر کے دو بڑے فائدے ہوئے؛ ایک توبلاگران آپس میں  گھل مل گئے اور نئے دوست بنانے لگے تو دوسرے لگے ہاتھ لاہور کی تاریخی مقامات کی زبردست سیر بھی ہوگئی جو کہ تمام شرکاء کی عمومی اور کراچی سے آئے بلاگران کی خصوصی طور پر راحت اور دلچسپی کا بائث بنی۔

سیر سے واپسی پر تمام بلاگران نے مل کر کھانا کھایا اور باہمی ملاقات اور  دلچسپی کے امور پر تبادلہِ خیال جاری رہا۔ جبکہ دوسرے دن کی تیاریوں میں مصروفیت اور پریس ریلیز لکھتے  کے بعد رات تقریباً ساڑھے تین ہم سونے کے لئے لیٹے۔

:دوسرا روز 27 جنوری 2013 بروزاتوار

دوسرے دن ناشتہ سے فراغت کے بعد ایوانِ صنعت و تجارت لاہور پہنچے اور انٹرنیٹ کی سہولیات حاصل کرنے اور باقائدہ کانفرنس کا آغاز ہوتے ہوتے صبح کے تقریباً  ساڑھے نو بج چکے تھے۔

دوسرے دن  کی کانفرنس  دراصل بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ماہروں کی ماہرانہ رائے اور تکنیکی مشاورت کی لائیو  نشریات پر مشتمل تھی۔

  تلاوتِ قرآنِ پاک کے بعد محترمہ  ناہید مصطفیٰ  کینیڈیں براڈکاسٹ سینٹر(سی-بی-سی) کی ٹیم لیڈر نے شرکاءِ کانفرنس سے خطاب کیا۔ اسکے بعد کیٹی مرسر نیشل پوسٹ کی صدر (جس کے تحت 700 سے زائدکینیڈین  ریڈیو اسٹیشن کام کر  رہے ہیں ) نے خطاب کیا ۔ تیسرا اور آخری خطاب جناب شیراز علی صاحب نے کیا جو کہ مانچسٹر یونیورسٹی کے استاد اور بلاگر بھی ہیں نے کیا۔

 خطاب کے بعد شرکاءِ کانفرنس اور ماہرین کے مابین سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا (جس کی تفصیلات اگلی پوسٹ میں ملاحظہ فرمائیں) جسکا اختتام  ریفرشمنٹ پر ہوا۔

: (کانفرنس کی نمایاںسہویات (غلطیاں

ا) کانفرنس اپنے جدوّل   (ٹائم ٹیبل)  کے حساب سے نہ تھی۔

مثلاً : مندرجہ ذیل موضوعات کو یکسر بھلا  دیا گیا۔ub-27-01-13-53-1024x768

ا) بین الاقوامی بلاگنگ کس سمت جا رہی ہے اور کیا کیا تبدیلیاں لا رہی ہے

ب) بلاگیئے! ذرا پیار  سے۔ اس میں شرکاء بلاگرز کسی موضوع پر یا کانفرنس کی ہی کاروائی پر فوری پوسٹ اپنے اپنے بلاگ پر شائع کریں گے

ج) ذاتی بلاگنگ کی ترقی اور بلاگ کے مواد کے لئے تحقیق کا طریقہ کار

د) اردو بلاگز کو مین سٹریم میڈیا میں اہمیت کیسے حاصل ہو گی

ح) بلاگ کی مارکیٹنگ اور بلاگ کے ذریعے پیسے کمانے پر بات چیت

ب) تمام بلاگران کے ای ۔میل ، فون نمبر  اور بلاگ ایڈریس لئے جانے کے باوجود انکو بلاگران  میں تقسیم کرنے سے گریز جسکی وجہ سے کانفرنس کے اختتام کی باوجود  بھی بلاگران یا کانفرنس کے روحِ رواں محسن عباس  کا آپس میں برقی رابطہ نہ ہونا ما سوائے فیس بک میں موجودگی کے۔

 ج) اگلی کانفرنس کے انعقاد کی تاریخ یا جگہ کے بارے میں جزوی یا کلی اعلان سے اجتناب جسکی وجہ سے وہاں موجود بلاگران کا  اس کانفرنس پر عدم اعتماد ۔ جسکی مثال چند بلاگران کا ، کانفرنس کے بارے میں منفی بلاگ لکھنا۔

  آخر میں تقریبِ تقسیمِ اسناد کی گئی جس میں خصوصاً پرانے اور اردو بلاگران میں سنگِ میل کی حیثیت رکھنے والوں کو شیلڈ پیش کی گئی۔

سب سے آخر میں تمام نئے اور پرانے  بلاگران جو کہ کانفرنس میں شریک تھے انکو  سووینئیر اور سرٹیفیکیٹ برائے شرکت پیش کیا گیا-

یوں ہم تقریباً ڈھائی بجے کانفرنس سے نکل کر کراچی آنے کے لئے اسٹیشن کی طرف روانہ ہوئے۔

نوٹ:  اس  مضمون میں کچھ لوگوں  کے نام یا معلومات کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ تسمیہ ہم اپنی (یاداشت) اور مضمون کی طوالت  کو قرار دیتے ہیں اور معزز شرکاء سے پیشگی معزرت کرتے ہیں۔(امید ہے قبول کی جائے گی)

جو حضرات و خواتین ہمارے بلاگ کے توسط سے اپنے بلاگ کا نام اور نمبر دینا چاہیں تو وہ تبصرے میں ضرور لکھیں۔ انشاءاللہ عنقریب اسکو ہم ایک علیحدہ مراسلے میں  تجزے کے ساتھ لکھنے کی کوشش کریں گے۔

(شکریہ!)

(…ختم شد)

(… از: منگو)

05 فروری 2013