پہلی دوروزہ اردو بلاگر کانفرنس 2013 – دوسرا حصّہ

Blog_Conf_new_2013-LHR-300x168

کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تقریبا دس بجے ہوا اور قرآن  مجید کی تلاوت سے ہوا اس کے بعد جناب محسن عباس قائم مقام صدر نے ابتدائی کلمات سے ادا کئے۔

جناب فرحت عباس شاہ ، محسن عباس، جناب میاں ابو ذر(نائب صدر ایوان صنعت و تجارت) ، محمد حسن معراج ، شعیب صفدر، شاکر عزیز، ایم بلال، کاشف نصیر، محمد سعد، ظہیر چوہان، خرم ابن شبیر،  نے شرکت کی  جن کےنام بھول رہا ہوں ان سے پیشگی معزرت( ویسے بھی سب اول تو نہیں آسکتے نا)

ابتدائی کلمات کے بعد جناب میاں ابوذر  صاحب (نائب صدر  ایوانِ صنعت و تجارت لاہور)  نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوۓ تقریب کا باقائدہ آغاز کیا۔

:پہلا روز 26 جنوری 2013 بروز ہفتہ:

:کانفرنس کی نمایاں  خصوصیات:

پہلے روز کی کانفرنس میں جو سب سے عمدہ خیال نظر آیا وہ  یہ کہ بلاگرز اور انکی بلاگنگ کا تعارف انکی زبانی کے تحت تمام  شرکاء کو  نشست بہ نشست  دعوت دی گئی کہ وہ منج پر آئیں اور اپنے بلاگ کا تعارف پیش کرنے کے ساتھ ساتھ  اپنا اظہارِ خیال پوری آزادی کے ساتھ پیش کریں۔

اس دعوت کے تحت نہ صرف یہ کہ نئے اور پرانے بلاگران نے اپنا اور اپنے بلاگ کا  تعارف پیش کیا بلکہ بلاگ کے واریوں نے بھی اظہارِ خیال پوری آزادی کے ساتھ پیش کیا۔

مزکورہ بالا عنوان کے تحت  جن لوگوں نے بہترین اظہارِ کئے ان میں حسن معراج اورمحمد شاکر سرِفہرست رہے۔ البتہ ایم بلال ایم صاحب اچانک منچ پر بلائے جانے پر زرا  کنفیوژ  ہوئے مگر انھوں نے  اپنے روائیتی  ہلکے پھلکے شوخ اندازِ بیاں سے اس کیفیت پر قابو پاتے ہوئے لوگوں کو  محضوظ  کیا اور اگلے آنے والوں کے لئے آسانیاں پیدا کیں۔

کانفرنس میں موجود شرکاء کو رابطے اور تعلقاتِ عامہ کے تحت ایک دوسرے سے شاناسائی کے لئے جو عمدہ طریقہ ڈھونڈا گیا وہ لاہور کے تاریخی مقامات کی سیر تھی۔ حالانکہ سیر کا احاطہ لاہور کی بادشاہی مسجد تھی  جبکہ مینارِپاکستان کی صرف نظری سیر کی گئی؛ کچھ منچلوں نے سرخ بتی ایریا  ، یا پھر  شاہی محلہ کی بھی سیر کی جو کہ اب  فوڈ اسٹریٹ میں تبدیل ہو چکی ہے۔

اس سیر کے دو بڑے فائدے ہوئے؛ ایک توبلاگران آپس میں  گھل مل گئے اور نئے دوست بنانے لگے تو دوسرے لگے ہاتھ لاہور کی تاریخی مقامات کی زبردست سیر بھی ہوگئی جو کہ تمام شرکاء کی عمومی اور کراچی سے آئے بلاگران کی خصوصی طور پر راحت اور دلچسپی کا بائث بنی۔

سیر سے واپسی پر تمام بلاگران نے مل کر کھانا کھایا اور باہمی ملاقات اور  دلچسپی کے امور پر تبادلہِ خیال جاری رہا۔ جبکہ دوسرے دن کی تیاریوں میں مصروفیت اور پریس ریلیز لکھتے  کے بعد رات تقریباً ساڑھے تین ہم سونے کے لئے لیٹے۔

:دوسرا روز 27 جنوری 2013 بروزاتوار

دوسرے دن ناشتہ سے فراغت کے بعد ایوانِ صنعت و تجارت لاہور پہنچے اور انٹرنیٹ کی سہولیات حاصل کرنے اور باقائدہ کانفرنس کا آغاز ہوتے ہوتے صبح کے تقریباً  ساڑھے نو بج چکے تھے۔

دوسرے دن  کی کانفرنس  دراصل بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ماہروں کی ماہرانہ رائے اور تکنیکی مشاورت کی لائیو  نشریات پر مشتمل تھی۔

  تلاوتِ قرآنِ پاک کے بعد محترمہ  ناہید مصطفیٰ  کینیڈیں براڈکاسٹ سینٹر(سی-بی-سی) کی ٹیم لیڈر نے شرکاءِ کانفرنس سے خطاب کیا۔ اسکے بعد کیٹی مرسر نیشل پوسٹ کی صدر (جس کے تحت 700 سے زائدکینیڈین  ریڈیو اسٹیشن کام کر  رہے ہیں ) نے خطاب کیا ۔ تیسرا اور آخری خطاب جناب شیراز علی صاحب نے کیا جو کہ مانچسٹر یونیورسٹی کے استاد اور بلاگر بھی ہیں نے کیا۔

 خطاب کے بعد شرکاءِ کانفرنس اور ماہرین کے مابین سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا (جس کی تفصیلات اگلی پوسٹ میں ملاحظہ فرمائیں) جسکا اختتام  ریفرشمنٹ پر ہوا۔

: (کانفرنس کی نمایاںسہویات (غلطیاں

ا) کانفرنس اپنے جدوّل   (ٹائم ٹیبل)  کے حساب سے نہ تھی۔

مثلاً : مندرجہ ذیل موضوعات کو یکسر بھلا  دیا گیا۔ub-27-01-13-53-1024x768

ا) بین الاقوامی بلاگنگ کس سمت جا رہی ہے اور کیا کیا تبدیلیاں لا رہی ہے

ب) بلاگیئے! ذرا پیار  سے۔ اس میں شرکاء بلاگرز کسی موضوع پر یا کانفرنس کی ہی کاروائی پر فوری پوسٹ اپنے اپنے بلاگ پر شائع کریں گے

ج) ذاتی بلاگنگ کی ترقی اور بلاگ کے مواد کے لئے تحقیق کا طریقہ کار

د) اردو بلاگز کو مین سٹریم میڈیا میں اہمیت کیسے حاصل ہو گی

ح) بلاگ کی مارکیٹنگ اور بلاگ کے ذریعے پیسے کمانے پر بات چیت

ب) تمام بلاگران کے ای ۔میل ، فون نمبر  اور بلاگ ایڈریس لئے جانے کے باوجود انکو بلاگران  میں تقسیم کرنے سے گریز جسکی وجہ سے کانفرنس کے اختتام کی باوجود  بھی بلاگران یا کانفرنس کے روحِ رواں محسن عباس  کا آپس میں برقی رابطہ نہ ہونا ما سوائے فیس بک میں موجودگی کے۔

 ج) اگلی کانفرنس کے انعقاد کی تاریخ یا جگہ کے بارے میں جزوی یا کلی اعلان سے اجتناب جسکی وجہ سے وہاں موجود بلاگران کا  اس کانفرنس پر عدم اعتماد ۔ جسکی مثال چند بلاگران کا ، کانفرنس کے بارے میں منفی بلاگ لکھنا۔

  آخر میں تقریبِ تقسیمِ اسناد کی گئی جس میں خصوصاً پرانے اور اردو بلاگران میں سنگِ میل کی حیثیت رکھنے والوں کو شیلڈ پیش کی گئی۔

سب سے آخر میں تمام نئے اور پرانے  بلاگران جو کہ کانفرنس میں شریک تھے انکو  سووینئیر اور سرٹیفیکیٹ برائے شرکت پیش کیا گیا-

یوں ہم تقریباً ڈھائی بجے کانفرنس سے نکل کر کراچی آنے کے لئے اسٹیشن کی طرف روانہ ہوئے۔

نوٹ:  اس  مضمون میں کچھ لوگوں  کے نام یا معلومات کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ تسمیہ ہم اپنی (یاداشت) اور مضمون کی طوالت  کو قرار دیتے ہیں اور معزز شرکاء سے پیشگی معزرت کرتے ہیں۔(امید ہے قبول کی جائے گی)

جو حضرات و خواتین ہمارے بلاگ کے توسط سے اپنے بلاگ کا نام اور نمبر دینا چاہیں تو وہ تبصرے میں ضرور لکھیں۔ انشاءاللہ عنقریب اسکو ہم ایک علیحدہ مراسلے میں  تجزے کے ساتھ لکھنے کی کوشش کریں گے۔

(شکریہ!)

(…ختم شد)

(… از: منگو)

05 فروری 2013

پہلی دوروزہ بین القوامی اردو بلاگر کانفرنس 2013

ابھی ہمیں بلاگ لکھتے ہوئے ذیادہ  دن نہ گزرے تھے کہ جناب ہمیں پاکستان کے دل لاہور سے پہلی بین القوامی اردو بلاگر کانفرنس کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ بہت خوش ہوئے اور حیرت بھی ہوئی کہ جناب ابھی تو بلاگ کا باقاعدہ آغاز کیا ہی تھا کہ دعوت نامہ موصول ہوگیا۔بہرحال (اپنی جاسوسی تجسس سے مجبور ہوکر) فورا ہی فیصلہ کیا کہ دیکھا جائے، اسکے پیچھے کیا مقاصد کارفرما ہیں  اور اپنے (زعمِ فاسد) شہری امتیازیت کے پیش نظر یہ بھی سوچا کہ کانفرنس کراچی میں کیوں نہ رکھی گئی۔

سب سے پہلے اپنے  دوست و مددگار جناب کاشف نصیر صاحب سے مشورہ کیا تو یہ عقدہ کھلا کے جناب وہ پہلےہی  تقریبا 17 عدد باقاعدہ بلاگرو ں کے ساتھ  جناب شعیب صفدر  کے  آفس میں مشورہ کرچکے ہیں ، دیگر بلاگران پاکستان کے مشورہ کے بعد پتہ چلا تھا کہ یہ کانفرنس ایشین کینڈین جرنلسٹس ایسوسی ایشن (ACJA) کے صدر محسن عباس صاحب جو کہ خود ایک درد مند دل رکھنے والے پاکستانی ہیں اردو بلاگ کو ایک تاریخی موڑ دینا چاہتے ہیں  اور چاہتے ہیں کہ پاکستانی اردو بلاگر ذریعہ معاش میں مصروف ہونے کے سبب اردو بلاگنگ چھوڑنے کے بجائے انکو ایسا متبادل فراہم کیا جائے جو کہ انکی سچی لگن (اردو بلاگنگ) سے جڑے  رہتے کے ساتھ ساتھ انکا ذریعہ معاش بھی بن جائے۔

بس جناب  محسن عباس صاحب کی اس عظیم الشان مقصد برائے ری ہیب لی ٹیشن برائے پاکستانی بلاگران اور اردو کی ترویج و ترقی کے بارے میں اقدامات کا سننا تھا کہ ہمارا بھی  سویا ہوا  جزبہِ حب الوطنی جوشن مارنے لگا اور اس ہی وقت ہم نے بھی فیصلہ کرلیا کہ ہم بھی اس کانفرنس میں شرکت ہر صورت میں کریں گے۔

القصہ مختصر! آفس سے چھٹی کے معاملات سے لے کر ریلوے ٹکٹ کی جانفشانی تک و دو کے بعد آخرکار ہماری  روانگی  کا وقت آہی گیا۔

کانفرنس کے مقام پر جب ہم پہنچے تو (ACJA) کے صدر جناب محسن عباس اور اردو بلا گنگ کے گوہرِ نایاب اور پنجاب کے بیٹے محمد بلال محمود کو اسٹیشن  پر اپنا منتظر پایا۔

بہرحال پہلی رات کو کانفرنس کی تیاری سے فراغت پاتے پاتے رات کے ساڑے تین پر بستر پر سونے کے لئے لیٹے۔

صبح کراچی اور دیگر شہروں سے آئے ہوئے بلاگران جس میں سوات ، فیصل آباد ، کوئٹہ، گلگت، ڈی آی خان، گجرات، گوجرانوالہ، پشاور، حافظ آباد، اسلام آباد اور ہمارے میزبان زند ہ دِلان لاہور جب ایوان صنعت و تجارت لاہور کانفرنس میں شرکت کے لئے پہنچے تو ان  میں اس کانفرنس کا بے انتہا جوش و خروش پایا گیا۔

کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تقریبا دس بجے ہوا اور قرآن  مجید کی تلاوت سے ہوا اس کے بعد جناب محسن عباس قائم مقام صدر نے ابتدائی کلمات سے ادا کئے۔

جناب فرحت عباس شاہ ، محسن عباس، جناب میاں ابو ذر(نائب صدر ایوان صنعت و تجارت) ، محمد حسن معراج ، شعیب صفدر، شاکر عزیز، ایم بلال، کاشف نصیر، محمد سعد، ظہیر چوہان، خرم ابن شبیر،  نے شرکت کی  جن کےنام بھول رہا ہوں ان سے پیشگی معزرت( ویسے بھی سب اول تو نہیں آسکتے نا))

… جاری ہے 

(…براہِ مہربانی تبصرہ نہ فرمائیں۔ سمجھ تو آپ گئے ہی ہونگے)

(… از: منگو)

29 جنوری 2013