ابّا کے 10 تھپڑ

discipline-child1-460x308

آج  9 اکتوبر (سن کو حزف کر دیا گیا ہے۔ آپ نے عمر پوچھنی ضروری ہے۔) بروز جمعرات عید کے دوسرے دن رات تقریباًِِ 1 بجے اچانک ہی ہماری پھوپھی جان نے ہمارے ابّو کو جگایا اور کہا؛ “بھیا جلدی سے سواری (TAXI) لے آئیں بھابھی کو اسپتال لے کر جانا ہے”۔ بس پھر کیا تھا As Usual (ہمیشہ کی طرح) ہمارے ابا جان کے ہاتھوں کے طوطے فلائی کر گئے اور بجائے اسکے کہ وہ دروازے کی طرف بھاگتے فوراً ہی وضو کرنے دوڑے اور واپسی پرہمارے دادا جی سواری کے ساتھ دروازے پر کھڑے ابّا جی کے ساتھ جانے کا انتظار کرتے پاۓ گئے۔

دراصل یہ قصّہ ہمارے دنّیا میں وارد ہونے سے چند گھنٹے پہلے کا ہے جب والد ین ماجد ین اپنے خالوسے(کہ خالہ پہلے ہی سدھار چکی تھیں) عید ملنے سعودآباد (ملیر) گۓ ہوۓتھے اور ہمیشہ کی طرح الحمداللہ! ہم نے انکے رنگ میں بھنگ ڈال دی تھی۔ (اسکا ہرگز یہ مطلب نھیں ھے کہ ہم بھنگی پیدا ہوۓ تھے۔) بلکہ جناب یہ تو ایک محاورہ ھے۔

خیر بقول امّی جان ہم بے حد جلد باز ہیں اس ہی وجہ سے ہم نے چاروں پاوں سے کسھکنے کی بجاۓ (direct) دوڑنا شروع کردیا تھا۔ جیسا کہ ابھی کسی کو ہم سے ملنے کا اشتیاق بھی نھیں ہے مگرصاحب مجال ہو کہ زرا سیدھے بیٹھیں۔۔۔ فوراً ہی اپنی سوانحِ عمری   گڑھنے بیٹھ گئے (کیا خبر! بعد میں لوگ سچ لکھ ڈالیں؛ لہزا! سارا (credit) خود ہی لے لو) ہی ہی ہی ہی….

ہاں تو جناب باقی ماندہ بچپن تو شاید عام لوگوں جیسا ہی گزرا مگر نجانے کیوں ہمارے پھوپھا نے ہمیں چھاپہ مار مشہور کر رکھا تھا۔ جب دیکھو ہماری کٹ لگوانے میں آگے آگے رہتے تھے؛ ابّا تو ہماری کبھی سنتے ہی نہیں تھے-

بس پھوپھا نے کہا! ابھی منگو(ہمارا قلمی نام؛ ویسے تو ہمارے کئی نام تھے مثلاً: میسنا  (Meesna)، سٹؔکا (Sutka)، وغیرہ، وغیرہ مگر ہم یہاں پر منگو سے ہی کام چلائیں گے) آیا تھا اس نے میری سیکو (SEIKO) کی نئ گھڑی توڑ دی…  بس جی ابّا نے ڈنڈا اٹھایا اور ہماری کمر توڑ دی…… ارے بھائ ہم سے بھی تو پوچھو کہ کتنی ٹیکنیک سے ہم نے گھڑی کو کھولا (بقول پھوپھا کے توڑا) تھا کہ ہر پرزہ صحیح سلامت علحیدہ علحیدہ نکال دیا تھا؛ اب جوڑنا ہماری زمہ داری تو نہ تھی!!! Demo میں تو آدھا ہی کام ہوتا ہے جو ہم نے کر دیا تھا۔

ویسے کیا تمام ابّا ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے ہمارے ہیں (تبصرہ ضرور کیجئے گا) یا کوئی غلطی ہوجائے تو کم از کم دس تھپڑوں سے تو تواضع شروع ہوتی تھی اور جناب ہماری غلطی  بھی کوئی خاص نہیں ہوتی تھی، مثلاً:

1۔ رات کے دس بجے جب ابّا آفس سے واپسی پر سورہے تھے تو ہم نے سائیکل چلالی، لو بھئی دس تھپڑ؛ جب کہ ہم نے اس وقت بنا چمٹرے کے پہیے (tire) والی سائیکل کی چوووووووووں…. کا مزہ لے رہے تھے (ویسے بھی ابّا کو بچپن سے ہی موسیقی سے لگاو نہیں تھا۔)

2۔ امّی نے ویکیوم کلینر کا پلگ نکالا تو اسکا ایک پیر غائب تھا ہم نے فورا ہی اپنے ہاتھ سے کھینچ کر سوئچ بورڈ (تختہ کلید) سے نکال کر امّی کے سامنے حاضر کردیا۔ بس پھر کیا تھا وہی ابا کے دس تھپٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھئ ایک تو چیز ڈھونڈنے کی دی اوپر سے معاوضے میں جوتے بھی کھاؤ یہ کہاں  کا انصاف ہے۔

3۔اسکول میں بھیّا فیل ہوگئے تو ہماری تواضع دس تھپڑوں سے حالانکہ قسم لے لیجئے جو ہم فیل ہوئے ہوں۔ ہم تو  صرف پاس ہی نہیں بلکہ  پانچویں (5th ) نمبر پر بھی آئے تھے۔ بس ذرا جب بھائی نے  اپنی  رپورٹ  کارڈ پر پاس لکھا تو ہم نے فرسٹ لکھوالیا۔

آپ ہی بتائیں ایسے ہٹلر ابّا ہونگے کسی کے؟؟؟

خیر جناب اسی ادھیڑ بن میں (اللہ معاف کرے کیا درد ہوتا تھا…کہ منہ سے چار سے پانچ گھنٹوں ( منٹوں؛ اب صاحب اپنی عزت بھی تو رکھنی ہے۔) تک ہنسی غائب رہتی تھی۔ جوان ہوگئے مگر ایک چیز سیکھ لی کہ جو بھی اچھا  کام کرے شاباشی دینے کے بجائے اسکی تھپڑوں سے تواضع کردو، خود ہی تمہارا نام ہوجائے گا۔

لہذا آپ کے سامنے ہیں اور نام کمارہے ہیں۔

شکریہ !

 (از:منگو)

(مورخہ: 21 جنوری 2013 رات : 41: 10)