امّی کی ماسی

maid_with_cashاو ہو ماسی!!! تم ابھی تک گئی نہیں جاوْ بھئ سب گھر میں تمھارا انتظار کر رہے ہونگے۔ یہ تھیں ہماری امّی   جان کی ماسی (ارے جناب رکئیے، رکئیے، رکئیے !!!  یہ پنجاب والی اصل  خالہ نہیں ہے بلکہ گھروں میں کام کرنے والی بائ یعنی ماسی ہے)۔ ویسے آپس کی بات ہے …  کہنے کو تو ماسی ہے مگر ہے ایک نمبر کی خوبصورت سانولی رنگت ، سڈول جسم، پتلی کمر اورکمر تک بل کھاتی لمبی  کالی چٹیا (او ہو بھائ!!! یہ ماسی ہے کہیں اسے ہماری محبوبہ نہ سمجھ لیجیے گا-) ویسے قسم لےلیں!!! ہے تو ہماری محبوبہ سے بھی زیادہ حسین مگرضروری ہے کہ ہم آپ کو  یہ بھی بتائیں؟؟؟ہونہہ

تو ہم بات کررہے ہیں تھے امّی  کی ماسی کی ؛لگتا ہے جیسے کوئی مشین ہو انسان تووہ خیر ہے ہی نہیں ۔مجال ہے جو کسی کام کو منع کردے۔ بلکہ جو کام یا صفائی گھر پر برسوں سے نہیں ہوئی وہ بھی ڈھونڈ ڈھونڈ کرکرتی ہے۔ امّی  کے منع کرنے باوجود کہتی” چھوڑیں امّی  میں کردیتی ہوں”۔ بھلا بتائیں کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کام کرنے والا خود اپنے لئے کام ڈھونڈے۔ یہ تو وہی بات ہوئی(” آ بیل مجھے مار”)۔ وہ بھی اس دور میں جب ماسی کو ایک کام کے آگے بولو تو جواب ملتا ہے باجی ابھی دوسرے گھر بھی جانا ہے۔

دراصل ! دو ماہ میں ہمارے گھر سے پانچ ماسیاں یہ کہہ کر جاچکی ہیں کہ باجی آپکا گھر بہت بڑا ہے اور ہم سے اتنا کام نہیں ہوتا۔ وہ تو شکر ہے انہوں سچ نہیں بتایا ورنہ ہمیں اتنے جوتے پڑتےکہ ہم یہ قصہ لکھے کے قابل ہی نہ ہوتے۔( اب آپ سے کیا پردہ اور گھر میں کسی کو پتہ ہی نہیں ہے کہ منگو کون ہے۔ ہی ہی ہی ہی)

امّی  کو بڑی مشکل سے یہ ماسی ملی جو ہر طرح سے  حازق تھی اور ہمیں تو بے انتہا پسند تھی (جب بھی ہم اسکو پچاس روپےکا  نوٹ دیتے ہیں تو اسکی مسکراہٹیں اور ادائیں تو ہمیں ہفتہ بھر نہیں بھولتیں)۔ اور امّی  کا بھروسہ بھی اتنا بڑھ گیا کہ وہ گھر کا چھوٹا موٹا سودا سلف بھی لے آتی  ۔

اتنی کاموں ماسی کہاں سے ملتی ہے بس یہی سوچ کر ہم نے اپنے کرایہ دار اور خالہ جان کے یہاں بھی اسے لگوادیا (اصل بات تو آپ سمجھ ہی گئے ہونگے

کل ہم آفس بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ امّی  جان کا فون آیا۔ آواز کچھ گھبرائی ہوئی  اور غصّے میں لگ رہی تھی، وہ کہنے لگی منگو…  ”ماسی بھاگ گئی“۔

ہماری تو جان ہی نکل گئی کہ کہیں ہماری کل کی  چھیڑ خانی کی روداد امّی  جان کے گوش گزار تو نہیں کردی کمبخت نے۔ ابھی ہم سنبھلے کا موقع ڈھونڈ نے کی کوشش کررہے تھے اور بہانے تراش ہی  رہے تھے کہ امّی  جان بولیں کہ “وہ ہمارے پرس سے پچاس ہزار روپے چرا کر بھاگ گئی”۔ بس یہ سننا تھا کہ ہم تو واقعی چکر میں آگئے، ہم نے ابھی کل ہی  تو امّی  کو تنخواہ لاکردی تھی ، “ہائیں!!! وہ سب لے اڑی… “ہم بوکھلا کر بولے۔

خیر بھاگم بھاگ گھر پہنچے تو پتہ چلا کہ موصوفہ نے امّی  کو کہاکہ اسکا سسر مرگیا ہے اور کرایہ داروں نے اسکو کام سے نکال دیا ہے  کیونکہ اس نے تین دن کی چھٹی مانگی تھی۔ امّی  کو افسوس تو بڑا ہوا مگر امّی  نے پرس سے فورا تین ہزار نکال کر دئے اور کہا کہ جا چھٹی پر۔ بس اسی وقت اسپر غشی طاری ہوگئی اور ماسی زمین بوس ہوگئی، امّی  چونکہ گھر پر اکیلی تھیں لہذاپرس وہی پھینک …پانی لانے دوڑیں۔ ماسی کو ہوش میں لایا اور فورا ہی چھٹی دے دی۔ ماسی کے جانے کے بعد امّی  نے پرس کھولا تو پیسے ندراد!!!۔  اب امّی  کو سمجھ آیا کہ اصل معاملہ کیا تھا کام کا تو صرف بہانا تھا۔

 اپنے کرایہ داروں سے معلوم کروایا تو انہوں نے بھی کسی قِسم کے نکالنے کے ارادے سے انکار کیا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ہماری خالہ جان کے گھر بھی ماسی نہ آئی تھی۔

ہم بھی اپنی امّی  پر بہت چلائے اور غصہ ہوئے کہ ہر ایرے غیرےپر آپ اتنا اعتماد کرلیتی ہیں وغیرہ وغیرہ …

 دراصل غصّہ ہمیں اپنی امّی  جان پر نہیں خود پر تھا یعنی کل ہی ہم نے ماسی کو پانچ سو روپے دئیے تھے اور ہفتہ کا پروگرام بنایا تھا :)

مگر جناب وہ تو ہمکو بھی چونا لگاکے نکل گئی تھی جس  نے اسکا ساتھ دیا تھا :(

ہمیں اس بات کا سب سے زیادہ افسوس ہےکہ پانچ سو بھی گئے اور اسے ہاتھ بھی نہ لگایا۔

   خصوصی گزارش: ہماری چھچھوری طبعیت کے علاوہ تبصرہ کریں؛ کیونکہ ہم چکنے گڑہے ہیں۔شکریہ !

 (از:منگو)

(مورخہ: 30 جنوری 2013 رات : 40: 11)